(68) ملازمین وخادمین کو تکلیف نہ دیجئے
بعض لوگ اپنے ملازمین اور گھریلو خادمین سے جانوروں سے بَدتر سلوک کرتے ہیں ، بات بات پر ان کی بے عزتی کرتے ہیں ، ان سے زیادہ کام لیتے ہیں ، اِنکار پر نوکری سے فارغ کردینے کی دھمکی دیتے ہیں ، ایسے افراد یاد رکھیں کہ ان ملازمین وخادمین کی بھی حق تلفی کرنا اوران کوبلاوجہِ شرعی تکلیف پہنچانا جائز نہیں ۔ ہمارے اکابرین تو اپنے خُدام سے مثالی حُسنِ سلوک رکھا کرتے تھے چنانچہ
غلام کو تکلیف نہ دی(حکایت:63)
منقول ہے کہ ایک رات امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکے ہاں کوئی مہمان آیا،اس وقت آ پ لکھ رہے تھے۔چراغ بجھنے لگا تو مہمان نے عرض کی: میں اُٹھ کر ٹھیک کردیتا ہوں۔ارشاد فرمایا:یہ بات مہمان کی خاطرداری کے خلاف ہے کہ اس سے خدمت لی جائے۔اس نے کہا:غلام کو جگادیتا ہوں،وہ یہ کام کرلے گا۔فرمایا:وہ ابھی ابھی سویا ہے۔یہ فرماکر خود اٹھے اور تیل کی کپّی لے کر چراغ میں تیل بھرا۔مہمان نے کہا:اے امیرالمومنین!آپ یہ کام خود انجام دے رہے ہیں! فرمایا:میں جب اس کام کے لئے گیا تب بھی عمر تھا اور جب واپس لوٹا تب بھی عمر ہی ہوں،میرے اس کام سے میرے مقام و مرتبے میں کوئی فرق نہیں پڑا اور لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جواللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ہاں عاجزی کرنے والا ہو۔ (احیاء علوم الدین،۳/۴۳۵)