Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
16 - 220
 (۳)والدین کی نافرمانی(۴) مسلمانوں کو تکلیف دینا ۔ (شرحُ الصُّدور ص ۲۷) 
مجھے دیدے ایمان پر اِستقامت
پئے سیِّدِ مُحْتَشَم یاالٰہی
                                              (وسائلِ بخشش،ص۵۷۳)
(حکایت:3)
چھڑی باغ میں واپس رکھ آئے 
		حضرتِ سیِّدُناصالح دَہّان علیہ رحمۃُ الحنّان بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا جابربن زید رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  ایک مرتبہ اپنے گھروالوں میں سے کسی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے ایک باغ سے گزرے تو کتوں کو بھگانے کے لئے وہاں سے ایک شاخ اٹھالی اورگھرلوٹتے وقت مسجدمیں رکھ دی ۔مسجدمیں موجود لوگوں سے کہا : اس کا خیال رکھنا ! یہ میں نے ایک قوم کے باغ کے پاس سے گزرتے وقت اٹھالی تھی ۔ لوگوں نے کہا : اے ابوشَعْثاء ! اس شاخ کی کیا اہمیت ہے ؟ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : اگرباغ سے گزرنے والا ہرشخص ایک ایک شاخ لیتارہے توباغ میں کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ چنانچہ صبح ہوئی توآپ وہ شاخ اُسی باغ میں واپس رکھ آئے ۔ (حلیۃ الاولیاء ، جابر بن زید ، ۳/ ۱۰۳ ، رقم : ۳۳۳۵)
دو اچھی اور دو بُری خصلتیں
	منقول ہے:دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان سے افضل کوئی خصلت نہیں: (۱)اللّٰہ تعالٰیپر ایمان لانا(۲)مسلمانوں کو نفع پہنچانا، جبکہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ