اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعد میں نے ان سے دوبارہ اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بتایا:حضورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامہر سال ایک مرتبہ میرے ساتھ قرآنِ پاک کا دَور کرتے تھے لیکن اس سال انہوں نے دومرتبہ دَور کیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرا وقتِ رخصت قریب آچکا ہے اور میرے گھروالوں میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آکر ملو گی۔یہ بات سن کر میں روپڑی۔اس کے بعد حضورِ پاک، صاحبِ لَولاکصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہو یا(پھر یہ ارشاد فرمایاکہ) مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو،یہ بات سن کر میں مُسکرا دی۔
(بخاری ،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام،۲/۵۰۷،حدیث:۳۶۲۳)
یہ راز کسی پر ظاہر نہ کرنا (حکایت:61)
حضرت سیدنا انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا بیان ہے:میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اتنے میں سرکارِ دو عالم،نُورِ مجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے،ہمیں سلام کیا اور مجھے ایک کام کے سلسلے میں بھیج دیا۔(اس کام کے سبب)مجھے اپنی والدہ کے پاس حاضری میں تاخیر ہوگئی۔جب میں واپس پہنچا تو والدہ محترمہ نے مجھ سے سببِ تاخیر دریافت فرمایا۔میں نے عرض کی کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے مجھے ایک کام سے بھیجا تھا۔انہوں نے پوچھا: کس کام