چنانچہ نبیِّ رَحمت ،شفیعِ امّت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس وقت تک رَدْغَۃَ الْخَبَال میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔ ۱؎(ابوداوٗد،کتاب الاقضیۃ،باب فیمن یعین علی خصومۃ ۔۔الخ،۳ /۴۲۷، حدیث: ۳۵۹۷ )
گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی
ہائے! میں نارِجَہنَّم میں جلوں گا یاربّ!
(وسائلِ بخشش،۸۵)
(61) زوجہ کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے اٹھانا
اپنا کا م اپنے ہاتھ سے کرنا باعثِ سعادت اور عظیم سنّت ہے۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدّیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ سلطانِ مکّۂ مکرّمہ ، سردارِمدینۂ منورہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے کپڑے خودسی لیتے اوراپنے نعلینِ مبارَکَین گانٹھتے اوروہ سارے کام کرتے جومرداپنے گھروں میں کرتے ہیں۔ (کنزالعمال ،۴/۶۰،جز۷،حدیث:۱۸۵۱۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیوی کو حُکم دینا مَثَلاً یہ اُٹھا دو ،وہ رکھ دو ،فُلاں چیز ڈھونڈ کر لادو وغیرہ سے بچنا اور اپنا کام اپنے ہاتھ سے کر لینا گھر کو اَمن کا گہوارہ بنانے میں مدد دیتاہے۔نیز اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎ :رَدْغَۃَ الْخَبَال دوزخ کا وہ مقام ہے جہاں دوزخیوں کا پیپ و خون جمع ہوتا ہے۔ (مراٰ ۃ المناجیح، ۵/۳۱۳)