Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
15 - 220
بدی را بدی سَہل باشَد جَزا
اگر مَردی اَحسِن اِلٰی مَن اَسا
(یعنی بدی کا بدلہ بدی سے دینا تو آسان ہے اگر تو مر د ہے تو برائی کرنے والے کے ساتھ بھی بھلائی کر) (غیبت کی تباہ کاریاں،ص۳۴۲)
سزا کا مستحق ہے 
		صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویبہارِشریعت جلد2صفحہ 407پرلکھتے ہیں: جو شخص مسلمان کو کسی فعل یاقول سے اِیذا پہنچائے اگرچہ آنکھ یاہاتھ کے اِشارے سے وہ مستحقِ تعزیر ہے ۔ ۱؎
(الدر المختار ، کتاب الحدود ، باب التعزیر ، ۶/ ۱۰۶)
بُرے خاتِمے کے چار اسباب 
		شرحُ الصُّدور میں ہے، بعض عُلَماء ِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام فرماتے ہیں : بُرے خاتمے کے چار اَسباب ہیں:(۱)نماز میں سُستی (۲) شراب نوشی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
  ۱؎  :تَعْزِیر:کسی گناہ پر بغرضِ تادِیب (اَدَب سکھانے کے لئے)جو سزا دی جاتی ہے اس کو تعزیرکہتے ہیں ،شارِع نے اس کے لئے کوئی مقدار معین نہیں کی ہے بلکہ اس کو قاضی کی رائے پر چھوڑا ہے جیسا موقع ہو اس کے مطابق عمل کرے۔ تعزیر کا اختیارصرف بادشاہ اسلام ہی کو نہیں بلکہ شوہر بی بی کو، آقا غلام کو ،ماں باپ اپنی اولاد کو، اُستاذشاگرد کو تعزیر کرسکتا ہے۔(بہارِ شریعت 2/403 بحوالہ  الدر المختار ، کتاب الحدود ، باب التعزیر ، ۶/ ۱۰۶) اس کے تفصیلی مسائل جاننے کے لئے بہارِ شریعت جلد2کے حصہ 9 صفحہ 403کا مطالعہ کیجئے۔۔