Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
149 - 220
تیزی سے اُس کی طرف لپکے، کسی کے پھینکے ہوئے کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑا ، آہ! پھسل کرچلتی ٹرین کے نیچے جا پڑے اور کٹ جانے کے سبب انتقال کرگئے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ان کی بے حساب مغفرت فرمائے ۔اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(56)محافل میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال
	بیانات اور نعت خوانی کرنا بڑی سعادت کی با ت ہے لیکن بلندآواز والا ساؤنڈسسٹم لگا کر محلے والوں کی نیند میں خلل ڈال کر اس کا اِنعقاد کرنا دین کی خدمت نہیں بلکہ لوگوں کی حق تلفی کا گناہ اپنے سر لینا ہے ۔اگر کوئی یوں اپنے دل کو منائے کہ ہم نے گھر گھر جاکر اِجازت لے لی ہے تو سفید بالوں والی ضعیف بڑھیا، بیمار بوڑھے ، دودھ پیتے بچے اور گھر میں بستر پر دَراز مریض کی اجازت کیونکر مل گئی ، اس لئے حاضرین کی تعداد کے مطابق بغیر اسپیکر ہی نعت وبیان کی ترکیب بنالینے میں عافیت ہے یا پھر کھلے گراؤنڈ میں جہاں سے گھروں تک آواز نہ پہنچے اتنی آواز میں اسپیکر چلائے جائیں جتنی حاجت ہو ، الغرض جس نے احتیاط کرنی ہو اس کے لئے راستے ہزار اور جس نے نہ کرنی ہو اس کے لئے بہانے بے شمار ۔
عصا توڑ دیا (حکایت:57)
	حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے کہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کے گھر کے باہر ایک واعظ بیان کیا کرتا تھا جس