پاس تشریف لائے اور رنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا:بات کاٹنا چھوڑ دو کہ اس میں بھلائی کم ہے ،بات کاٹنا چھوڑ دو کہ اس میں نفع تھوڑا ہے کیونکہ یہ دو بھائیوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دیتی ہے۔(تاریخ مدینۃدمشق،۳۳/۳۷۰)
اُم المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہانے اِرشاد فرمایا:جب تم لوگوں کو گفتگو کرتے دیکھو تو ان کی بات نہ کاٹو۔(مساویٔ الاخلاق للخرائطی،ص۲۲۱،رقم:۵۳۸)حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کاارشاد ہے:کسی بیوقوف کی بات نہ کاٹو کہ وہ تمہیں اذیت دے گا اور کسی عقل مند کی بات نہ کاٹو کہ وہ تم سے بُغْض رکھے گا۔(احیاء العلوم ،۲؍۲۲۴)
فتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ 170پر ہے :بے ضرورت شرعیہ دوسرے کی بات کاٹنا (ممنوع) ہے جبکہ وہ علمِ شرعی کے ذکر میں ہو۔
(55)کیلے وغیرہ کے چھلکے پلیٹ فارم پر پھینک دینا
بعضوں کا صفائی کا ذہن نہیں ہوتا،ایسے لوگ کسی کے کمرے یا گاڑی میں مونگ پھلی کھائیں گے تو چھلکے وہیں پھیلا دیں گے ، آم ،کینو یا کیلا وغیرہ کھا کر اُس کا چھلکا روڈ یا پلیٹ فارم پر پھینک دیں گے ، ان کا یہ عمل کسی کو زخمی کر سکتا بلکہ کسی کی جان بھی لے سکتا ہے چنانچہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے بڑے بھائی عبدالغنی صاحب کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ پنجاب سے بابُ المدینہ آتے ہوئے ٹرین جب زم زم نگر(حیدر آباد)کے ا سٹیشن پر رُکی تو وہ پانی پینے کیلئے اُترے ، جب ٹرین چل پڑی تو