نے مرحوم امام صاحب کی بیٹی کا رشتہ پیش کیا جسے میں نے قبول کرلیا ۔شادی کے ایک سال بعد ہمارے یہاں بیٹا پیدا ہوا تو میری زوجہ بیمار پڑ گئی ۔ایک دن میں اسی پریشانی کے عالم میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ میری نظر اپنی زوجہ کے گلے کے ہار پرپڑی ، یہ بالکل ویسا ہی ہار تھا جو میں نے دورا نِ حج نابینا حاجی کو واپس کیا تھا۔میں نے ہار کا سارا قصہ اپنی زوجہ کو سنایا تو وہ رونے لگی اور بولی : اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! آپ وہی ہیں جن کے بارے میں میرے والد رو رو کر یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! میری بیٹی کو ہار لوٹانے والے شخص جیسا شوہر عطا فرمانا ، اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی ۔ کچھ ہی عرصے میں میری زوجہ کا انتقال ہوگیا۔میں اس کی مِیراث اور ہار لے کر بغداد لَوٹ آیا ۔ (سیر اعلام النبلاء ،۱۴/۳۹۴)
(51)قیمتِ خرید پر تبصرے
بعضوں کو قیمتِ خرید پر تبصرہ کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے ، چیز کوئی بھی خریدے یہ اس سے ضرور پوچھیں گے کہ کتنے میں خریدی ؟ پھر جوبھی جواب ملے ان کا واحد تبصرہ یہ ہوتا ہے کہ بہت مہنگی خرید لائے ،یہ سن کر بعض اوقات خریدنے والے کی دل شکنی بھی ہوتی ہے کہ میں اتنا گھوم پھر کر بھاؤ تاؤ کرکے اپنے گمان میں سستی چیز خرید کر لایا مگر موصوف نے اسے بھی مہنگا قرار دے دیا ۔یہ الگ بات ہے کہ تبصرہ کرنے والے کو یہی چیز خرید کرلانے کا کہا جائے تو شاید اس سے بھی مہنگی خرید لائے ۔ بہرحال ہمیں چاہئے کہ اگر ہمارا کوئی شناسا واقعی مہنگے داموں چیز خرید لایا ہوتو بھی