Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
145 - 220
کی : میری ایک بیٹی ہے جس سے میں بہت پیار کرتاہوں ، اس کے کئی رشتے آئے ہیں ، آپ مجھے کس سے اس کی شادی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ؟ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا : اس کی ایسے شخص سے شادی کرو جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہو ، کیونکہ اگر ایسا شخص تمہاری بیٹی سے محبت کرے گا تو اسے عزت دے گا، اور اگر نفرت بھی کرے گا تو ظلم نہیں کرے گا ۔ (شرح السنۃ للبغوی ، ۵ /۹ ، تحت الحدیث : ۲۲۳۴)
رشتہ یوں بھی ہوتا ہے(حکایت:55)
	حضرتِ سیِّدُنا علی بن عَقیل بغدادی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں :میں حج کرنے گیا تو وہاں مجھے سُرخ ڈوری میں پروئے ہوئے موتیوں کا ہار ملا۔ اتنے میں مجھے ایک نابینا بوڑھا شخص نظر آیا جو اس ہار کی گمشدگی اور اسے لوٹانے والے کے لئے100 دینار کے انعام کا بھی اعلان کر رہا تھا ۔ میں نے ہار اسے لوٹا دیا ، اس نے انعام میں مجھے دینار دینا چاہے تو میں نے منع کردیا ۔وہاں سے میں ملک شام پہنچا، بَیتُ الْمُقَدَّس حاضری دی ، پھر بغداد جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا لیکن ’’حَلَب‘‘ (ملک شام کے ایک قدیم شہر)میں بھوک اور سخت سردی سے دوچار ایک مسجد میں داخل ہوگیا ۔مسجد کے نمازیوں نے مجھے امامت کے لئے آگے کردیا ، میں نے انہیں نماز پڑھائی ۔ انہوں نے مجھے کھانا پیش کیا ،ماہِ رمضان شروع ہوچکا تھا ، لوگوں نے کہا: ہمارے امام صاحب وفات پاگئے ہیں تو اس مہینے آپ ہمیں نمازیں پڑھائیں۔ میں نے حامی بھرلی اور سارا مہینہ ان کی امامت کی ۔بعدِ رمضان انہوں