گھوم کر کسی صالح انسان کو تلاش کرنے لگے ۔ دورانِ تلاش ایک لڑکے پر آپ کی نگاہ پڑی جس کے چہرے پر عبادت وپرہیزگاری کا نور چمک رہا تھا ۔آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس سے پوچھا :’’تمہاری شادی ہوچکی ہے ؟‘‘ اس نے نفی میں جواب دیا ۔ پھر پوچھا:’’کیا ایسی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتے ہو جو قرآن مجید پڑھتی ہے ،نماز روزہ کی پابند ہے ، خوبصورت پاکباز اور نیک ہے ۔‘‘ اس نے کہا :’’میں تو ایک غریب شخص ہوں بھلا مجھ سے ان صفات کی حامل لڑکی کا رشتہ کون کرے گا ؟‘‘آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا:’’میں کرتا ہوں ،یہ دراہم لو اور ایک درہم کی روٹی ،ایک درہم کا سالن اور ایک درہم کی خوشبو خرید لاؤ۔‘‘ نوجوان وہ چیزیں لے آیا ۔آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنی صاحبزادی کا نکاح اس پارسا نوجوان کے ساتھ کردیا ۔ صاحبزادی جب رخصت ہو کر شوہر کے گھر آئی تو اس نے دیکھا کہ گھر میں پانی کی ایک صراحی کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس صراحی پر ایک روٹی رکھی ہوئی دیکھی ۔پوچھا :’’یہ روٹی کیسی ہے؟‘‘شوہر نے جواب دیا :’’یہ کل کی باسی روٹی ہے ، میں نے افطارکے لئے رکھ لی تھی ۔‘‘یہ سن کر کہنے لگیں کہ مجھے میرے گھر چھوڑ آئیے ۔نوجوان نے کہا :’’مجھے تو پہلے ہی اندیشہ تھا کہ شیخ کرمانی کی دختر مجھ جیسے غریب انسان کے گھر نہیں رک سکتی ۔‘‘لڑکی نے پلٹ کر کہا:’’میں آپ کی مفلسی کے باعث نہیں لوٹ رہی ہوں بلکہ اس لئے کہ مجھے آپ کا توکل کمزور نظر آرہا ہے ،اسی لئے مجھے اپنے والد پر حیرت ہے کہ انہوں نے آپ کو