والے بچی کو اس انداز سے دیکھتے جیسے انہوں نے کوئی بھیڑ بکری خریدنی ہو ۔ان کے دیکھنے کے انداز،تیکھے سوالات اور پھر انکار نے ہماری پھول جیسی بچی کے دل کو ایسی ٹھیس پہنچائی کہ ہماری بچی شروع شروع میں کھوئی کھوئی رہتی پھر اس نے مکمل چپ سادھ لی ہر وقت اپنے آپ کو کمرے میں قید کیا ہوا ہے کھانا بھی زبردستی کھلانا پڑتا ہے۔ ایسی حالت کی وجہ سے ہماری بچی دن بدن کمزور ہوکر ہڈیوں کا ڈھانچا بن گئی ہے۔ عاملوں کے پاس جائیں تو وہ کالے جادو کا کہہ دیتے ہیں ڈاکٹرز کے پاس جائیں تو وہ نفسیاتی مریض قرار دیتے ہیں، کسی بھی طریقہ علاج سے فائدہ نہیں ہو رہا ۔ بچی کے حالات بتاتے ہوئے دُکھیارے والدین نے رونا شروع کر دیا ۔
رشتے میں نیک عورت کا انتخاب کیا جائے
عمدہ سے عمدہ بیج بھی اسی وقت اپنے جوہر دکھا سکتا ہے جب اس کے لئے عمدہ زمین کا انتخاب کیا جائے ۔ ماں بچے کے لئے گویا زمین کی حیثیت رکھتی ہے ،لہٰذا بیوی کے انتخاب کے سلسلے میں مرد کوبہت احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ ماں کی اچھی یا بُری عادات کل اولاد میں بھی منتقل ہوں گی ۔متعدد احادیث ِ کریمہ میں مرد کو نیک ، صالحہ اور اچھی عادات کی حامل پاک دامن بیوی کا انتخاب کرنے کی تاکیدکی گئی ہے چنانچہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے چار چیزوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے :(۱)اس کا مال، (۲)حسب نسب،(۳)حسن و جمال اور(۴)دین۔ پھر فرمایا:تمہارا ہاتھ خاک آلود