Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
140 - 220
بلکہ دونوں کے خاندانوں کا بھی تعلق جوڑتا ہے،لہٰذا رشتہ دیکھنے کاکام بڑی احتیاط سے کیا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس احتیاط میں اتنا آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کا انداز سامنے والے کے لئے تکلیف دہ ہوجاتا ہے مثلاً جوعورتیں رشتہ دیکھنے جاتی ہیں کبھی لڑکی کو چلا کر دیکھیں گی کہ کہیں لنگڑاتی تو نہیں ، دھوپ میں لے جاکراس کے گورے رنگ کے اصلی ہونے کا یقین کریں گی بعض تو حد ہی کردیتی ہیں کہ منہ کھلوا کر دانت چیک کرتی ہیں ۔اس کے بعد بھی اتنی منہ پھٹ ہوتی ہیں کہ لڑکی کے سامنے ہی اس کے عیب گنوانا شروع کردیتی ہیں کہ تھوڑی موٹی ہے اگر دُبلی (smart)ہوتی تو ہم کچھ سوچتے ، قد چھوٹا ہے ، رنگ سانولا ہے،تعلیم کم ہے ،عمرتھوڑی زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ ، اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا کبھی کبھار لڑکے والوں کو بھی کرنا پڑتا ہے ۔ رشتہ پسند نہیں آیا تو معذرت کرنے کا انداز بھی شائستہ اور ایسا نپا تُلا ہونا چاہئے کہ جس میں کسی کی دل شکنی ہو نہ جھوٹ بولنا پڑے ۔
نفسیاتی مریضہ بن گئی(حکایت:52)
	ایک ڈاکٹر کا بیان ہے کہ ایک خاتون اور اس کا خاوند اپنی جوان بچی کے علاج معالجے کے لئے میرے پاس آئے ۔انہوں نے بتایا کہ ہماری بچی نے ایم ایس سی کیا ہوا ہے اور پورے خاندان میں ہنس مکھ، ملنسار ،عقلمند مشہور تھی، ایم ایس سی کرنے کے بعد آئے روز رشتے آنا شروع ہوگئے لیکن سانولی رنگت کی وجہ سے جو لوگ بھی آتے کئی اسی وقت انکار کردیتے تو کئی فون پر معذرت کردیتے ۔رشتہ دیکھنے