اسلامی بھائیو! یہ تصوُّر بھی نہیں کیا جاسکتا کہ امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم جان بوجھ کر کسی پرظُلم کریں اور اُس کا پَیْر کُچل دیں، بے خیالی میں سر زد ہونے والے فِعل پر بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخوفِ خدا عزوجل کے سبب بے ہوش ہوگئے اور ایک ہم لوگ ہیں کہ جان بوجھ کر نہ جانے روزانہ کتنوں کو طرح طرح سے اِیذائیں دیتے ہوں گے ، مگر افسوس! ہمیں اِس بات کا اِحساس تک نہیں ہوتا کہ اگر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے قِیامت کے روز ہم سے انتِقام لیا تو ہمارا کیا بنے گا! (اشکوں کی برسات،ص ۱۸)
بداخلاقی کی دو علامتیں
حضرت سیِّدُناابو حازِم رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: آدمی کے بدخُلْق ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے پاس اس حالت میں جائے کہ وہ خوشی سے مُسکرا رہے ہوں اوراسے دیکھ کر خوف سے الگ الگ ہوجائیں اور ایک علامت یہ ہے کہ بلّی اس سے (ڈر کر)بھاگ جائے یا کتا خوف کی وجہ سے دیوار پھلانگ جائے۔ (تنبیہ المغترین،ص۱۹۹)
خوش خلقی کے درجات
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : خوش خُلْقی کا اَدنیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کو جانی ، مالی ، عزت کی اِیذا نہ دے ، اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ برائی کا بدلہ بھلائی سے کرے ، یہ بہت اعلیٰ چیز ہے ، جسے خدا تعالیٰ نصیب کرے ۔
(مراۃ المناجیح ، ۶/ ۴۶۱)