اسے ڈرانا ، دھمکانا نہیں چاہیے ۔ مقروض کو معلوم ہوا کہ آپ ’’فِرَبر‘‘ میں ہیں تو وہ خُوارِزْم چلا گیا ، (آمُل سے خُوارِزْم 12 دن کی مسافت پر ہے۔ ) ہم نے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے عرض کی : آپ ’’آمُل‘‘ کے حاکم ابو سلمہ کُشانی سے کہیں کہ وہ خُوارِزْم کے حاکم کے نام اس مقروض کو گرفتار کرنے اور آپ کا مال وصول کرنے کے لئے ایک مکتوب لکھ دے ۔ فرمایا : اگر میں اس سے سفارشی مکتوب لکھواؤں گا تو وہ بھی مجھ سے سفارشی مکتوب لکھوانے کا لالچ رکھے گا ، اور میں دنیا کے بدلے دین کبھی نہیں بیچوں گا ، ہم نے بہت کوشش کی لیکن آپ نہ مانے ، حتی کہ ہم نے خود بغیر اجازت’’آمُل‘‘ کے حاکم سے بات کر کے مکتوب لکھوادیا ۔ جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو پتہ چلا تو بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمایا : مجھ پر میری ذات سے زیادہ شفقت نہ کرو ! اور ’’خُوارِزْم‘‘ میں اپنے ایک دوست کو مکتوب لکھا کہ مقروض سے بھلائی کے ساتھ پیش آیا جائے ! بعد ازاں مقروض ’’آمُل‘‘ لوٹ آیا اور ’’مَرْو‘‘ جانے کا ارادہ کیا ۔ (آمُل سے مَرْو 6 دن کی مسافت ہے ۔ ) حاکم کو مقروض کی خبر پہنچی تو اس نے سختی کرنا چاہی لیکن آپ نے سختی کرنا پسند نہ فرمایا ۔ بالآخر اس بات پر صلح ہوئی کہ مقروض آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو ہر سال 10 درہم کے حساب سے قرض چکائے گا ، لیکن آپ کو 10 تو کُجا قرضے کا ایک درہم تک واپس نہ ملا ۔ (سیر اعلام النبلاء ، ابو عبد اللہ البخاری ، ۱۰/ ۳۰۶)
(50)رشتے دیکھنے کا انداز
نکاح کا رشتہ قائم کرنا صرف دو افراد کو ایک دوسرے سے وابستہ نہیں کرتا