Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
137 - 220
قرض کی ادائیگی میں اچھی نیت کا صلہ 
	 نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: جس نے قر ض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اسے ادا کرنے کے معا ملہ میں حریص ہے پھر وہ اسے ادا کئے بغیر مرگیا تو اللّٰہعزوجل اس با ت پر قا در ہے کہ اس کے قرض خواہ کو اپنے پسندیدہ انعامات کے ذریعے راضی کر دے اور مرنے والے کی مغفرت فرمادے اور جس نے قر ض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارا دہ نہیں رکھتا ہے پھر وہ اسے ادا کئے بغیر مرگیا تو اس سے پوچھا جائے گا ،کیا تو یہ گمان کرتا تھا کہ ہم فلا ں کو تجھ سے اس کا پورا حق لے کر نہ دیں گے؟ پھر اسکی نیکیوں میں سے کچھ نیکیاں لے لی جائیں گی اور قر ض خواہ کی نیکیوں میں قرض کے بدلے کے طور پر ڈال دی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو قرض خواہ کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دیئے جائیں گے ۔(التر غیب والترہیب،۲/۳۷۲،رقم:۱۲)
(49)مقروض کو دھمکیاں دینا
	بعض اوقات قرض دار وقت پر قرض ادا نہیں کرسکتا کیونکہ بے چارے کے پاس واقعی اتنی رقم ہی نہیں ہوتی ،ایسے میں قرض خواہ کو صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہئے ، لیکن بہت سے قرض خواہ ایسے مواقع پرگالم گلوچ، دھمکیوں اور مارپیٹ پر اترآتے ہیں ، بعض تو مقروض کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہیں بلکہ عملا ً اسے قتل بھی کردیتے ہیں جس پر مقروض اپنی جان اور وہ اپنی رقم سے محروم ہوجاتے ہیں اور قتل کی سزا الگ