دیکھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ،۱/۲۰۴)
جو بے مثال آپکا ہے تقوٰی، تو بے مثال آپکا ہے فتوٰی
ہیں علم و تقوٰی کے آپ سنگم، امامِ اعظم ابوحنیفہ
(وسائلِ بخشش،ص۵۷۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(43)قربانی کے جانورکے خون وغیرہ سے کسی کی دیوار وغیرہ خراب کرنا
عیدِ قربان کے موقع پر جانور کی قربانی دینابڑی سعادت کی بات ہے لیکن اس دوران حقوق العباد کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے ، بعض لوگ کسی کے گھر کے قریب جانور ذبح کرتے ہیں اوربے احتیاطی کی وجہ سے جانور کے خون کے چھینٹے اس کی دیوار پر جاپڑتے ہیں ،جانور کے جسم سے نکلنے والی آلائشیں بھی بدبو اور گندگی پھیلاتی ہیں لیکن قربانی کرنے والااس پر شرمندہ ہوتا ہے اور نہ معذرت کرتا ہے ۔
جب پڑوسی کی دیوار پر خون کے چھینٹے پڑے (حکایت:46)
شیخِ طریقت امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے ایک مدنی مذاکرے میں ارشاد فرمایا ۱؎: دو سال پہلے میرے بیٹے (حاجی عبیدرضا)کے یہاں قربانی کا بڑا جانور پڑوسی کے گھر کے پاس بندھا ہوا تھا ، اس کے ذبح کے وقت خون اُڑ کردیواروں پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎ :ضرورتاً جملوں کی نوک پلک سنواری گئی ہے۔