یقینا نہیں تو دوسروں کے لئے بھی یہی ذہن رکھئے اور اس کی حق تلفی سے بچئے۔
دیوار کی کیچڑ (حکایت:45)
حضرتِ سیِّدُناامام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الھادیفرماتے ہیں: امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اپنے ایک مَقروض مَجوسی (یعنی آتَش پرست) کے یہاں قَرضہ وُصُول کرنے کیلئے تشریف لے گئے۔ اِتِّفاق سے اُس کے مکان کے قریب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتوں میں کیچڑ لگ گئی، کیچڑ چُھڑانے کیلئے جوتے کو جھاڑا تو کچھ کیچڑ اُڑ کر مَجوسی کی دیوار سے لگ گئی، پریشان ہوگئے کہ اب کیا کروں! کیچڑ صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مِٹّی بھی اُکھڑے گی اور صاف نہیں کرتا تو دیوار خراب ہورہی ہے۔ اِسی شَش وپَنج میں دروازے پر دستک دی، مَجُوسی نے باہَر نکل کر جب امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکو دیکھا تو اُس نے قَرض کی ادائیگی کے سلسلے میں ٹالَم ٹَول شروع کردی۔ امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے قَرض کامُطالَبہ کرنے کے بجائے دیوار پر کیچڑ لگ جانے کی بات بتا کر نہایت ہی لَجاجت (یعنی عاجزی)کے ساتھ مُعافی مانگتے ہوئے ارشاد فرمایا: مجھے یہ بتائیے کہ آپ کی دیوار کس طرح صاف کروں؟ امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی حُقُوقُ الْعِباد کے مُعاملے میں بے قراری اور خوفِ خداوندی عزوجل دیکھ کر مَجُوسیبے حدمُتَأَثِّر (مُ۔تَ ۔ اَث۔ ثِر ) ہُوا اور کچھ اس طرح بولا: اے مسلمانوں کے امام! دیوار کی کیچڑ تو بعد میں بھی صاف ہوتی رہے گی، پہلے میرے دل کی کیچڑ صاف کرکے مجھے مسلمان بنا دیجئے۔ چُنانچِہ وہ مَجُوسی امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا تقویٰ