Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
129 - 220
 کشائی نہ کریں۔ ادھوری بات سن کر مشورہ دینے والے کو اکثر آئینۂ ندامت دیکھنا پڑتا ہے،دلیل کے بغیر مشورہ ایسا ہی ہے جیسے کمان کے بغیر تیر  ،جس شعبے کا تجربہ نہ ہو اس کے بارے میں مشورہ دینے سے گریز کیجئے ،گاڑی خراب ہوجائے تو کار مکینک سے مشورہ کیا جاتا ہے نہ کہ ڈاکٹر سے ،مشہور ہے : لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ یعنی ہر فن کے لئے ماہرین ہوتے ہیں۔ مشورہ دینے والا یہ بات بھی ذہن میں رکھے کہ مشورہ لینے والے کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کی رائے سے اتفاق نہ کرے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(40)کسی کے گھریلو معاملات میں دخل اندازی کرنا 
	آج سالن میں کیا پکے گا؟ عید کے کپڑے کب اور کتنے خریدنے ہیں؟ قربانی کا جانور چھوٹا (یعنی بکرا وغیرہ) لینا ہے یا بڑا(یعنی بیل وغیرہ)؟گھر میں رنگ وروغن کب اور کونسا کروانا ہے ؟فریج چھوٹا لینا ہے یا بڑا ؟ بچوں کو جوتے کس طرح کے لے کر دینے ہیں ؟بچوں کو ،ان کی امّی کو کتنی جیب خرچی دینی ہے ؟ سودا سلف کس دکان سے لانا ہے ؟ الغرض اس طرح کے درجنوں معاملات ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں جنہیں انسان اپنے معاشی اور سماجی حالات کے مطابق انجام دیتا ہے لیکن کچھ لوگوں کو اس طرح کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرنے کی عادت ہوتی ہے جو سامنے والے کو اکثر ناگوار گزرتی ہے لیکن وہ اس کامروتاً اظہار نہیں کرپاتا ، کبھی وہ جی کڑا کرکے دل کی بات زبان پر بھی لے آتا ہے کہ آپ اپنے کام سے کام رکھئے یہ