شروع کردیتے ہیں ، ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا بھی اپنے گھر کا کچرا وہاں پھینکتا ہے تو گویا لائن لگ جاتی ہے ،وہی جگہ عوامی طور پر کچرا کونڈی قرار پاتی ہے ،لیکن جس کے گھر کے باہر یہ کاروائی کی جاتی ہے وہ کس کَرب وتکلیف سے گزرتا ہے اس کا حال وہی بتا سکتا ہے جس پر یہ گزری ہو۔
پالتو بِلّا گھر میں ہی دفنادیا(حکایت:44)
حضرتِ سیِّدُناابو حیان تَیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی فرماتے ہیں : میرے والد نے بتایا کہ حضرتِ سیِّدُنا قاضی شُرَیح رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کاپالتو بِلامر گیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ اسے گھر کے صحن میں دفنا دو ! میں نے دفنا دیا ، اس کو پھینکنے کی کوئی عوامی جگہ نہ تھی ، لہٰذامسلمانوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے گھر ہی میں دفن کر وا دیا ۔ (حلیۃ الاولیاء ، شریح بن الحارث الکندی ، ۴/ ۱۴۸ ، رقم : ۵۰۷۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(39)بن مانگے مشورے دینا
کسی بھی اہم کام کے لئے مشورہ کرلینا بہت مفید ہے ،اس سے غلطی اور ناکامی سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے ،لیکن بعضوں کو مشورہ لینے کی نہیں صرف دینے کی عادت ہوتی ہے ،جہاں جاتے ہیں بن مانگے مشوروں کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتے ہیں ، بول بول کر دوسروں کے لئے ذہنی اذیت کا سبب بنتے ہیں اوراپنا وقار بھی گراتے ہیں ۔اپنی عزت کا تحفظ اسی میں ہے کہ جب تک ہم سے مشورہ مانگا نہ جائے ،لب