حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یہ اس صورت میں ہے کہ جانے والا اپنی جگہ کوئی نشانی رکھ گیا ہو جس سے پتہ لگے کہ وہ لوٹ کر آئے گا یا کوئی اور علامت ہو۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۳۷۱) حضرت علامہ ابوزکریا یحیٰی بن شرف نووی شافعیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی اس حدیثِ پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں:ہمارے علماء فرماتے ہیں:یہ حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جو مسجد وغیرہ میں مثلاً نماز کے لئے بیٹھے اور پھر واپس آنے کے ارادے سے وہاں سے جائے مثلاً وضو کرنے یا کسی معمولی کام کے لئے جاکرواپس آئے تو اس جگہ کے لئے اس کی خصوصیت ختم نہ ہوگی بلکہ واپس آنے پر وہی شخص اس نماز کے لئے اس جگہ کا حقدار ہوگا۔اگر اس مقام پر کوئی اور بیٹھ گیا ہوتو اسے یہ حق حاصل ہے کہ اسے وہاں سے اٹھادے اور بیٹھنے والے کو وہاں سے ہٹ جانا چاہیے ۔اپنی جگہ سے اٹھنے والا اس جگہ جانماز وغیرہ چھوڑ کر اٹھے یا ویسے ہی جائے دونوں صورتوں میں وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔(شرح مسلم للنووی،جزء:۱۴،۷/۱۶۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(31) گاڑی پر اسکریچ ڈالنا
گلی میں کھڑی کار یا جیپ بالخصوص نئی گاڑی پر چابی یا کسی نوکدار چیز سے چوری چھپے اسکریچ (لکیر،Scratch)ڈال دینے میں بعضوں کو بڑا مزہ آتا ہے لیکن مالک کا دل مُرجھا جاتا ہے کیونکہ اسکریچ کی صورت میں گاڑی کی قیمت میں بھی کمی