Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
121 - 220
ساتھی فرشتوں کی طبیعت اورقسم کی بنائی ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے کسی مجمع میں بدبو دار منہ یاکپڑے لیکر نہ جائے تاکہ لوگوں کو ایذاء نہ پہنچے۔(مراٰۃ المناجیح،۱/۴۳۸)
	فرمانِ مصطفیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:کِراماً کاتِبِین(یعنی اعمال لکھنے والے دونوں بُزُرگ فِرِشتوں) پر اس سے زیادہ کوئی بات شدید نہیں کہ وہ جس شخص پر مقرَّر ہیں اُسے اِس حال میں نَماز پڑھتا دیکھیں کہ اسکے دانتوں کے درمیان کوئی چیز ہو۔  (معجم کبیر،۴/۱۷۷،حدیث: ۴۰۶۱)
فرشتوں کو تکلیف دینا
	اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضاخان  علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ جلد 1کے صفحہ نمبر 839 پر فرماتے ہیں: متعددــ احادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بندہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پررکھتا ہے ۔ یہ جو کچھ پڑھتا ہے اس کے منہ سے نکل کر فرشتہ کے منہ میں جاتا ہے اُس وقت اگر کھانے کی کوئی شے اُس کے دانتوں میں ہوتی ہے ملائکہ کو اُس سے ایسی سخت ایذا ہوتی ہے کہ اور شے سے نہیں ہوتی۔ (فتاوی رضویہ ، ۱/ ۸۳۹)
مسواک کرلیا کرے 
	سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے : تم میں سے جب کوئی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا چاہے تو مِسواک کر لیا کرے ! کیونکہ جب کوئی نمازمیں قراء ت کرتاہے تو فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے ، اور اس کے