حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پیازولہسن کھانا حرام نہیں بلکہ کھاکر بدبودارمنہ لئے مسجد میں آنا حرام ہے۔خواہ وہاں نمازی ہوں یا نہ ہوں کیونکہ فرشتے ہروقت رہتے ہیں۔’’اگر کھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر اس کی بُو دُور کر لو‘‘کی وضاحت میں مفتی صاحب لکھتے ہیں:تا کہ ان کی بوجاتی رہے کیونکہ بدبو ہی ممانعت کی وجہ ہے۔پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ حکم ہر مسجد کا ہے،بلکہ ہر دینی مجلس میں اس کا خیال رکھا جائے۔
(مراٰۃ المناجیح،۱/۴۵۲)
مسجِد میں کچّا گوشت نہ لے جائیں
صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں:مسجِد میں کچّا لہسن پیاز کھانا یا کھا کر جانا جائز نہیں جب تک بو باقی ہوکہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے جس میں بدبو ہو جیسے گِندَنا( یہ لہسن سے ملتی جُلتی ترکاری ہے) مُولی ، کچا گوشْتْ،مِٹّی کا تیل ،وہ دِیا سَلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہو، رِیاح خارِج کرنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کو گندہ دَہنی کا عارِضہ ( یعنی منہ سے بد بوآنے کی بیماری) یا کوئی بد بودار زَخم ہو یا کوئی بد بودار دوا لگائی ہو تو جب تک بُو مُنقَطِع( یعنی ختم) نہ ہو اُس کو مسجِد میں آنے کی مُمانَعت ہے۔ (بہارِ شریعت ،۱/۶۴۸)
کچّی پیاز والے کچومر اور رائتے سے مُحتاط رہئے
کچّی پیاز والے چنے، چھولے ،رائتے اور کچومرنیز کچّے لہسن والے اَچار چٹنی