بد بُودار مرھم لگا کر مسجِد میں آنے کی مُمانَعَت
میرے آقااعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنّت ،مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:’’جس کے بدن میں بد بوہو کہ اُس سے نَمازیوں کو اِیذا ہو مَثَلاً مَعَاذَ اللہ گندہ دَہَن( یعنی جس کومُنہ سے بد بو آنے کی بیماری ہو)، (یا)گندہ بَغَل( یعنی جس کے بغل سے بد بو آنے کا مرض ہو) یا جس نے خارِش وغیرہ کے باعِث گندھک ملی( یا کوئی سا بدبو دار مرہم یا لوشن لگایا) ہو اُسے بھی مسجِد میں نہ آنے دیا جائے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ ، ۸/ ۷۲)
کچّی پیاز کھانے سے بھی مُنہ بد بُودار ہو جاتا ہے
کچّی مُولی، کچّی پیاز،کچّا لہسن اور ہر وہ چیز کہ جس کی بُو نا پسند ہو اسے کھا کر مسجِد میں اُس وقت تک جانا جائز نہیں جب تک کہ ہاتھ مُنہ وغیرہ میں بو باقی ہو کہ فِرِشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔حدیث شریف میں ہے، اللہ کے محبوب، دانائے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے پیاز، لہسن یاگِندَنا(لہسن سے مِلتی جُلتی ایک ترکاری)کھائی وہ ہماری مسجِدکے قریب ہرگز نہ آئے ۔ ( مُسلِم،کتاب المساجد،باب نہی من اکل۔۔۔الخ،ص۲۸۲، حدیث ۵۶۴) اور فرمایا: اگر کھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر اس کی بُو دُور کر لو۔( ابوداوٗد،کتاب الاطعمۃ،باب فی اکل الثوم،۳/۵۰۶، حدیث:۳۸۲۷)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس