Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
116 - 220
	شارح بخاری ابوالحسن حضرت سیدنا علی بن خلف المعروف ابنِ بطال رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اسی مفہوم پر مشتمل ایک اور حدیثِ پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں:یہ فرمانِ عالیشان حرمت ِ مسلم کی تاکید پر مشتمل ہے کہ تیر کی وجہ سے کہیں وہ خوفزدہ نہ ہوجائے یا اسے تکلیف نہ پہنچے۔مسجد میں لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے جو کہ نماز کے اوقات میں زیادہ ہوتا ہے،سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ تیروں کی وجہ سے کسی کو تکلیف ہوسکتی ہے۔یہ حدیثِ پاک آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے اخلاقِ کریمہ اور مسلمانوں پر مہربانی کا نمونہ ہے۔
(شرح ابن بطال،کتاب الصلاۃ،باب یاخذ بنصول۔۔۔الخ،۲/۱۰۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(28)  مُنہ میں بد بُو ہو تو دوسروں کو ایذا پہنچتی ہے
	فتاویٰ رضویہ جلد 7صَفْحہ384پر ہے:مُنہ میں بدبو ہونے کی حالت میں (گھر میں پڑھی جانے والی ) نَماز  مکروہ ہے اور ایسی حالت میں مسجِد جانا حرام ہے جب تک مُنہ صاف نہ کر لے اور دوسرے نَمازی کو اِیذا پہنچنی حرام ہے اور دوسرا نَمازی نہ بھی ہو توبھی بدبوسے ملائکہ کو اِیذا پہنچتی ہے۔ حدیث میں ہے: جس چیز سے انسان تکلیف مَحسوس کرتے ہیں فِرشتے بھی اس سے تکلیف مَحسوس کرتے ہیں۔
 ( مُسلِم،کتاب المساجد،باب نہی من اکل۔۔۔الخ،ص۲۸۲، حدیث ۵۶۴)