جہنم کا پل
رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمان ہے : جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اسے دوزخ کی طرف پل بنایا جائے گا ۔ (ترمذی ، کتاب الجمعۃ ، باب ما جاء فی کراہیۃ التخطی یوم الجمعۃ ، ۲/ ۴۸ ، حدیث : ۵۱۳)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یہ پھلانگنا سخت گناہ ہے اور دوزخ میں جانے کا ذریعہ ، کیونکہ اس میں مسلمانوں کی توہین بھی ہے اور اِیذا بھی ، ہاں اگر اگلی صفوں میں جگہ ہو اور لوگ سُستی سے پیچھے بیٹھ گئے ہوں تو اس جگہ کو پُر کرنے کے لیے یہ آگے جاسکتا ہے ، کیونکہ یہاں قصور ان بیٹھنے والوں کا ہے نہ کہ اس کا ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۳۳۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(27)نوک دار چیز احتیاط سے لے کر چلیں(حکایت:43)
حضرت سیدنا جابر بنعبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں چند تیر لے کر گزرا جن کے پَیکان(یعنی تیروں کی نوک) کھلے ہوئے تھے،سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حکم دیا کہ وہ ان کے پیکان پکڑلے تاکہ وہ کسی مسلمان کو چُبھ نہ جائیں۔ (مسلم،کتاب البروالصلۃ،باب امر من مر۔۔۔الخ، ص۱۴۰۹،حدیث:۲۶۱۴)