(26)گردنیں نہ پھلانگیں(حکایت:42)
حضرت سیدنا اَنس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہروایت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اورآپ کے قریب آ کر بیٹھ گیا، جب نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نماز پڑھا چکے تو ارشاد فرمایا :اے فلاں!تجھے ہماری جماعت میں سے ہونے سے کس چیز نے منع کیا ؟اس نے عرض کی: یارسولَاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!میں نے چاہا کہ میں اس جگہ بیٹھوں جو آپ کی نگاہ میں ہو،تو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :میں نے تمہیں لوگوں کی گردنیں پھلانگتے اور انہیں اِیذا پہنچاتے ہوئے دیکھا، جس نے کسی مسلمان کو اِیذا دی اس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے اِیذا دی اس نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو اِیذا دی۔(المعجم الاوسط ،۲/۳۸۶،حدیث :۳۶۰۷)
حدیثِ پاک میں ہے: جس نیجُمُعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اُس نے جہنَّم کی طرف پُل بنایا۔ (تِرمِذی،کتاب الجمعۃ،باب ما جاء فی کراہیۃ۔۔۔الخ،۲/۴۸،حدیث:۵۱۳)یعنی جس طرح لوگوں کی گردنیں اس نے پھلانگی ہیں اس کو قیامت کے دن جہنم میں جانے کا پُل بنایا جائے گا کہ اس کے اوپر چڑھ کر لوگ جائیں گے۔(حاشیہ بہارِ شریعت ،۱/۷۶۲)