ایمان لائے تو حضورِ انور صلی اللّٰہ علیہ وسلمنے صحابہ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضوَان) کو تاکید فرمادی کہ عکرمہ کے سامنے کوئی ابوجہل کو برا نہ کہے کہ اس سے فطری طور پر عکرمہ کو تکلیف ہوگی۔(مراٰۃ المناجیح،۸/۳۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(24)گزرگاہ کے بیچ یا کنارے پر بول و براز کرنا
قضائے حاجت ایک بشری تقاضا ہے ،کسی بھی جگہ کسی بھی وقت انسان کو اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے لیکن لوگوں کی گزر گاہ پر قضائے حاجت کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے لئے باعثِ تکلیف ہوگا چنانچہ حکیم ترمذی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی لکھتے ہیں کہ حضور اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے عام راستے میں قضائے حاجت سے منع فرمایا۔عام راستہ وہ ہے جس پر لوگ چلتے ہوں، عام راستے کی قید اس لئے لگائی گئی کہ اس پر ایسا کرنے سے مسلمانوں کو نقصان اور تکلیف پہنچتی ہے۔مزید ارشاد فرمایا:’’جو عام راستے،نہر کے کنارے یا پھل دار درخت کے نیچے قضائے حاجت کرے اس پر اللّٰہ تعالٰی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔‘‘ایسا کرنے والا مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے(اللّٰہعَزَّوَجَلَّ) کی طرف سے لعنت کا مستحق قرار پاتا ہے کیونکہ فرمانِ مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے:جس نے کسی مسلمان کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو اذیت دی۔(المنہیات للحکیم الترمذی،ص۴۶)