Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
110 - 220
تکلیف دیتے ہیں لڑنا بھڑنا، غیبت ،چغلی کرنا وغیرہ ۔ زبان کا زخم سِنَان یعنی بھالے کے زخم سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ یہ مرہم سے بھرجاتا ہے مگر وہ نہیں بھرتا ۔ حضرت علی(کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم) فرماتے ہیں:
جَرَاحَاتُ السِّنَانِ لَہَا الْتِیَام 		وَلَا یَلْتَامُ مَا جَرَحَ اللِّسَان
کسی اردو شاعر نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے:
چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا 		لگا جو زخم زبان کا رہا ہمیشہ ہرا
	’’وہ آگ میں ہے‘‘کی وضاحت میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:یعنی یہ کام دوزخیوں کے ہیں اگر یہ عبادت گزار بی بی اپنی تیز زبان سے توبہ نہ کرے گی تو اولًا دوزخ میں جائے گی،نوافل سے لوگوں کے حق معاف نہیں ہوتے،پھر سزا بھگت کر جنت میں جائے گی لہٰذا یہ حدیث اس قانون کے خلاف نہیں کہ صحابہ تمام ہی عادل ہیں کوئی فاسق نہیں،بعض حضرات صحابہ سے گناہ ہوئے مگروہ قائم نہ رہے توبہ کرکے دنیا سے گئے۔
	مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:اس فرمان عالی سے ہم لوگوں کے کان کھل جانے چاہئیں ہم میں سے بہت لوگ اُصول چھوڑکرفُضول میں کوشش کرتے ہیں فرائض کی پرواہ نہیں نوافل پر زور،معاملات خراب وظیفوں چلوں کا اہتمام،دوا کے ساتھ پرہیز ضروری ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۵۷۷)
	 مَدارج النبوۃ میں ہے کہ جب عکرمہ ابن ابی جہل(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)