Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
11 - 220
 تو دل میں حقیر جانو ! نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! یا بُرے لَقَب سے یاد کرو ! نہ اس کا مذاق بناؤ ! آج ہم میں یہ عیب بہت ہے ، پیشوں ، نسبوں ، یا غربت و اِفلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے ، وہ بنگالی ، وہ سندھی ، وہ سرحدی ، اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔ شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے ۔ مختلف لکڑیوں کو آگ جلادے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے ۔ یوں ہی جب حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے ، حبشی ہو یا رُومی !
 (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۵۲)
دامنِ مصطفیٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اس کا زمانہ ہوگیا
جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی
			بلا اِجازتِ شرعی مسلمان کو تکلیف دینا کتنی بڑی جُرأت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان  علیہ رحمۃ الرحمن  فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 میں  طَبَرانِی شریفکے حوالے سے نقل کرتے ہیں:  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب،طبیبوں کے طبیبصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ  اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ  اٰذَانِیْ  وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہ۔(یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اُس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو اِیذا دی۔( اَلْمُعْجَمُ