Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
109 - 220
زبیر اپنی زمین تَر کرکے پانی انصاری کو دے دو اب پورا حق زبیر (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)کو عطا فرمایا کہ پہلے تم اپنے کھیت کو پانی دو،پھر اتنی دیر تک پانی روکے رکھو کہ کھیت آس پاس کی مینڈھ (بنّا)تک پہنچ جائے اور کھیت لبریز ہوجائے تب انصاری کو دو۔یعنی پہلے انصاری کی رعایت کی گئی تھی اور حضرت زبیر(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) کو حسنِ اخلاق کی تعلیم دی گئی تھی مگر جب انصاری نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا بلکہ اُلٹا ناراض ہوگیا تو ہر ایک کو پورا حق دیا گیا، پہلے فَضْل تھا اب عَدْل۔( مراٰۃ المناجیح،۴/۳۴۰)
زبا ن سے تکلیف دینے والی کا انجام
	حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! فلاں عورت کی نمازروزے اور صدقات کی فَراوانی کا چرچا ہے لیکن وہ اپنے پڑوسیوں کو زبان سے ستاتی ہے۔ ارشاد فرمایا: وہ آگ میں ہے۔ عرض کی : یارسولَاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!فلاں عورت کی نماز روزے اور صدقات کی کمی کا ذکر ہوتا ہے البتہ وہ  پَنِیر کے کچھ ٹکڑے ہی خیرات کرتی ہے اور اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں دیتی ۔سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :وہ جنتی ہے ۔(مسند احمد،مسند ابی ہریرۃ، ۳/۴۴۱،حدیث:۹۶۸۱)
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :زبان کا ذکر اس لئے کیا اکثر لوگ دوسروں کو زبانی