اِس حدیثِ پاک کے مختلف حصوں کی جو شرح فرمائی وہ درج ذیل ہے:ان دونوں صاحبوں کے کھیت برابر تھے جو اس نالے سے سینچے جاتے تھے،جھگڑا ہوا آگے پانی دینے کا،انصاری کہتے تھے پہلے میں پانی دوں،زبیر (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)فرماتے ہیں پہلے میں دوں، کیونکہ آپ کا کھیت اوپر تھا جدھر سے پانی آتا تھا اور انصاری کا کھیت نیچے بہاؤ کی طرف اور اوپر والا پہلے پانی دیتا ہے۔(’’اس پرانصاری نے کہا: وہ آپ کے پھوپھی زاد جو ہوئے‘‘ کی وضاحت میں مفتی صاحب لکھتے ہیں:)یعنی آپ نے اس فیصلہ میں ان کی قرابت داری کا لحاظ فرمایا ہے۔ شارحین نے فرمایا کہ یہ شخص قوم انصار سے تو تھا مگر مؤمن نہ تھا یا یہودی تھا یا منافق ،مگر ترجیح اِسے ہے کہ تھا تو مسلمان مگر نَومسلم (یعنی نیامسلمان ہوا)تھا،آداب بارگاہ سے بے خبر تھا اسی لئے حضورِ انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا دوسرے صحابہ نے اسے کوئی سزا نہ دی۔(مرقات) اشعہ نے فرمایا: یہ منافق ہی تھا جیسے عبداﷲابن اُبی کہ قبیلہ انصار سے تھا مگر منافق تھا ،قتل اس لیے نہ کرایا کہ منافقوں کو قتل نہ کرایا جاتا تھا۔ واﷲاعلم!
حضورانور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کواس کے اس کلام سے بہت ہی تکلیف ہوئی حتی کہ چہرہ انورسرخ ہوگیا، منافقوں، ناواقفوں سے بسااوقات حضور انور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ایسی باتیں سن لیتے تھے تکلیف ہوتی تھی مگر صبر فرماتے تھے۔(’’اے زبیر !پانی دو پھر پانی روک لو حتی کہ مینڈھ تک لوٹ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو‘‘ کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں: )پہلے تو فرمایا تھا کہ اے