(23)طنزیہ اندازِ گفتگواختیار کرنا(حکایت:40)
حضرت سیدناعروہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا زبیربن عوام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاور ایک انصاری شخص کے درمیان حَرَّہ کی نال کے متعلق جھگڑا ہوا۔(یہ معاملہ بارگاہِ رسالت میں پیش ہوا تو)حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشادفرمایا :اے زبیر! تم پانی دے کرپھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو۔اس پرانصاری نے کہا: وہ آپ کے پھوپھی زاد جو ہوئے ۔اس پر حضور صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے چہرے کا رنگ بدل گیاپھر فرمایا: اے زبیر! پانی دو پھر پانی روک لو حتی کہ مینڈھ تک لوٹ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو۔
(یہ حدیث نقل کرنے کے بعد حضرت سیدنا امام شہاب الدین زہری رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں : ۱؎) یعنی اب نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے حضرت زبیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو اپنا پورا حق لینے کا صریح حکم دیا جب کہ انصاری نے آپ کو ناراض کردیا حالانکہ حضورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان دونوں کو وہ مشورہ دیا تھا جس میں دونوں کے لیے گنجائش تھی ۔
(بخاری، کتاب التفسیر،باب فلاوربک۔۔۔الخ،۳/۲۰۵، حدیث: ۴۵۸۵)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎ : وَہَذَا الْکَلَامُ لِلزّہْرِیّ ذَکَرَہُ اِدْرَاجًا (عمدۃ القاری ، کتاب التفسیر ، باب فلا وربک۔۔۔الخ ، ۱۲/ ۵۳۸ ، تحت الحدیث : ۴۵۸۵)