Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
106 - 220
 آج امام بن بیٹھے ہو ‘‘ جیسے جملے بول کر طنز کرنا سخت دل آزار ہے ۔
خود بھی اسی گناہ میں مبتلا ہوگا
	 سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:جو اپنے بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائے تو وہ نہ مرے گا حتی کہ خودبھی کرے گا۔
(ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،باب:۱۱۸،۴/۲۲۶، حدیث:۲۵۱۳)
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :گناہ سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ توبہ کرچکا ہے یا وہ پرانا گناہ جسے لوگ بھول چکے یا خُفیہ گناہ جس پر لوگ مُطَّلع نہ ہوں اور عار دلانا توبہ کرانے کے لیے نہ ہومحض غصہ اور جوش غضب سے ہو یہ قیود خیال میں رہیں۔’’ وہ نہ مرے گا حتی کہ خودبھی کرے گا‘‘کی وضاحت میں مفتی صاحب لکھتے ہیں:یعنی اپنی موت سے پہلے یہ گناہ خود کرے گا اور اس میں بدنام ہوگا، مظلوم کا بدلہ ظالم سے خود رب تعالیٰ لیتا ہے۔مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں: یہاں گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جس سے گنہگار توبہ کرچکا ہے ایسے گناہ کا ذکر بھی نہیں چاہیے ،جس گناہ میں بندہ گرفتار ہے اس سے عار دلانا تاکہ توبہ کرے یہ تو تبلیغ ہے اس پر ثواب ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۴۷۳)
نہ تھی اپنے عیبوں کی جب خبر                  رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی خامیوں پر جب نظر                     تو جہاں میں کوئی بُرا نہ رہا