Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
105 - 220
حاضر ہوئے، حضرت کی دست بوسی کرکے بیٹھ گئے اور پھرفوری طور پر جانے لگے۔ حضرت نے ان حضرات کو روکنے کی طرف خصوصی توجہ فرمائی لیکن وہ لوگ نہیں رکے اور جنکشن کی طرف روانہ ہوگئے۔ان کو ٹرین نہیں ملی،اس کے بعد بس اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوئے تووہاں پر ان کو بس بھی نہیں ملی۔مینیجر بس اسٹینڈنے بتایا کہ شاہ جہاں پور کو اب کوئی بس نہیں جائے گی،صبح کو جائے گی۔دل برداشتہ ہوکر حضرت کے دولت کدے کی طرف روانہ ہوگئے، حضرت نے ان لوگوں کے جانے کے بعد مولانا حفیظ الرحمن صاحب سے فرمایا کہ یہ سب حضرات تھوڑی دیر بعد واپس آجائیں گے،ان کو نہ بس نہ ٹرین ملے گی۔تھوڑی دیر بعد کافی پریشانی اٹھاکر تھک کر دوبارہ حضرت کے دولت کدے پر آگئے ،ان کو دیکھ کر مولانا صاحب مسکرانے لگے،حضور مفتیٔ اعظم ہند  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے بھی تبسم فرمایا اور سب لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناوُل فرمایا۔(جہانِ مفتیٔ اعظم ہند،ص۹۱۲)
تڑپنا اس طرح بلبل کہ بال و پر نہ ہلیں
ادب ہے لازمی شاہوں کے آستانے کا
(22)توبہ کے بعد گناہوں پر عار دلانا
	گناہوں کی عادت بہت بُری اور ان سے توبہ کرلینا بہت اچھا ہے پھرجو گناہوں کا راستہ چھوڑچکا ہو اس کو ان گناہوں پر عار دلانا بہت ہی بُرا ہے ،’’ کل تک تم چوریاں کرتے تھے آج بڑے نیک بنے پھرتے ہو‘‘،’’کل خود نماز نہیں پڑھتے تھے