Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
104 - 220
تو اٹھے اور اپنی عادت کے مطابق اِسْفَار کے بعد باجماعت نمازِ فجر پڑھی۔ناشتے کے بعد ہم لوگ وہاں سے رخصت ہوگئے۔سننے میں آیا کہ اس شخص نے یہ کہنا شروع کیا کہ بہت مشہور تھا کہ بہت بڑے بزرگ ہیں ،میں نے تو ان میں بزرگی کی کوئی بات نہ دیکھی،انہوں نے تہجد تک نہیں پڑھی۔وہ شخص عتاب کا شکار ہوا،اس کے گھر میں آگ لگ گئی،سارا گھر اور سارا سامان ،مال و متاع جل گیا۔ہزاروں کے نوٹ گھر میں تھے جل کر راکھ ہوگئے،صرف بدن کے کپڑے بچے،اس تباہی سے وہ نیم پاگل ہوگیا۔ اَطراف کے علما نے اسے تنبیہ کی کہ تونے ایک عارفِ کامل کی شان میں گستاخی کی ہے،یہ اسی کی سزا ہے۔اب اسے ہوش آیا مگر کیا کرتا؟دل ہی دل میں توبہ کی،عاجزی و زاری کی۔اتفاق کہ سال بھر کے بعد پھر حضرت مفتیٔ اعظم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرماس اطراف میں تشریف لے گئے تو اس نے حاضر ہوکر معافی مانگی اور حضرت کو پھر اپنے گھر لے گیا اور مرید ہوا۔اب وہ ایک خوش حال فرد ہے،اس قسم کے اور بھی واقعات ہوئے ہیں۔(جہانِ مفتیٔ اعظم ہند،ص۳۳۲ملخصاً) 
 بات نہ ماننے کا انجام(حکایت:39)
	حضرت مولانا حفیظ الرحمن صاحب مرحوم کا بیان ہے:ایک مرتبہ میں اپنے قریب ترین عزیز کے ساتھ مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفی رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰنسے ملاقات کے لئے حاضر ہوا،ملاقات کے بعد حضرت نے مہمان نوازی کے لئے اِصرار کیا تو ہم رک گئے۔اسی اثنا میں شاہ جہا ں پو ر سے چند عقیدت مند متوسلین