ہوا،اُنہوں نے فرمایا ،رات یہیں قِیام کر لیجئے۔ میر ا دل چُونکہ پرندہ کھانے میں پھنسا ہوا تھا میں کوئی بہانہ کر کے گھر پَہُنچ گیا۔ گَرماگَرم بُھنا ہوا پرندہ دسترخوان پر رکھ دیا گیا ۔ یکایک گھر میں کُتّا گُھس آ یا اور جَھپَٹ کر بُھنا ہوا پرندہ لے بھاگا۔ اُس پرندے کا بچا ہوا شوربہ خادِمہ لا رہی تھی کہ اُس کے کپڑے کے دامن کا جھٹکا لگنے سے وہ شوربہ بھی سارے کا سارا گر گیا۔ پھرصُبح جب میں حضرتِ سیِّدُنا شیخ جعفر خُلدی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضِر ہوا تو مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے :جو شخص مَشائخ کے دِلوں کا لحاظ نہیں رکھتا اس کے دِل کو اِیذاء پہنچانے کیلئے کُتا مُسَلّط کر دیا جاتا ہے۔ (الرِّسالۃُ القُشَیرِیّہ،ص۳۶۲ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا، بُزُرگوں کی بات نبھانے اور وہ جو حکم دیں اُس کو بجا لانے ہی میں عافیّت ہے۔ اللّٰہ والوں کے ساتھ چالاکی اور بہانے بازی کار آمد نہیں ہوتی۔
ولایت کا معیار(حکایت:38)
شارحِ بخاری حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکا بیان ہے: مغربی دیناج پور اسلام پور کے علاقے میں ایک شخص نے مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفی رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کو مدعو کیا اور بہت اہتمام کیا۔جب حضرت آرام کے لئے لیٹے تو وہ شخص رات بھر جاگتا رہا،حضرت نے وہاں بھی نمازِ تہجدادا نہ فرمائی۔اذانِ فجر کے بعد جب میں نے حسبِ دستور حاضر ہوکر جگایا