میں پیش خدمت ہے : عالِم کا جاہل پر اور استاد کا شاگرد پر ایک سا حق ہے اور وہ یہ کہ (۱) اس سے پہلے گفتگو شروع نہ کرے۔(۲) اس کی جگہ پراس کی غیرموجودگی میں بھی نہ بیٹھے۔(۳) چلتے وقت اس سے آگے نہ بڑھے۔(۴) اپنے مال میں سے کسی چیز سے اُستاد کے حق میں بُخل سے کام نہ لے یعنی جو کچھ اسے درکار ہو بخوشی حاضرکردے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت تصور کرے۔ (۵) اس کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے۔(۶) اور اگر چہ اس سے ایک ہی حرف پڑھا ہو،اس کے سامنے عاجزی کا اِظہارکرے۔ (۷) اگر وہ گھر کے اندر ہو،توباہرسے دروازہ نہ بجائے ،بلکہ خود اس کے باہر آنے کا انتظار کرے۔(۸) (اسے اپنی جانب سے کسی قسم کی اَذیت نہ پہنچنے دے کہ)جس سے اس کے استاد کو کسی قسم کی اذیت پہنچی،وہ علم کی برکات سے محروم رہے گا۔
(فتاویٰ رضویہ ،۴ ۲/ ۴۱۲ملخصاً)
استاد کودھوکہ دینا زیادہ برا ہے
اپنے استاد کو اپنی طرف سے عبارتیں گھڑ کردھوکا دینے والے طالب علم کے بارے میں دریافت کئے گئے سوال کے جواب میں امام اہل سنت مولاناشاہ احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : سُخن پَروری یعنی دانستہ باطِل پر اِصرار ومکابرہ ایک کبیرہ،کلمات علماء میں کچھ الفاظ اپنی طرف سے اِلحاق کر کے ان پر اِفترا دوسرا کبیرہ،علماء کرام اور خود اپنے اساتذہ کو دھوکہ دینا خصوصاً امرِ دین میں