اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ حسد سے دور رہو! کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ (أبو داود، کتاب الأدب، باب فی الحسد، ۴/۳۶۱، حدیث: ۴۹۰۳)
حضرت سیدنا معاویہ ابن حیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیّد عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اَلْحَسَدُ یَفْسَدُ اْلِایْمَانَ کَمَا یَفْسُدُ الصَّبِرُ الْعَسْلَیعنیحسد ایمان کو اسی طرح تباہ کردیتا ہے جس طرح صَبِر (ایلوا۔ایک کڑوا پودا اور اس کا عرق ) شہد کو تباہ کردیتاہے۔ (کشف الخفاء ۱/۳۱۷،حدیث:۱۱۲۹)
{10}شراب کی عادت چھوٹ گئی
ضلع قصور (پنجاب، پاکستان) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں بگڑا ہوا نوجوان تھا، گناہوں کی کالک سے اپنا دامن سیاہ کر رہا تھا، شراب و چرس کا عادی بن چکا تھا، لوگوں کے سامنے نشہ کرتا، جوا کھیلنے کی لت میں بھی گرفتار تھا ، اسی طرح زندگی کی گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی جانب قبر رواں دواں تھی، آخر میرے سدھرنے کی سبیل بن گئی، میری گناہوں بھری زندگی کی شام ہوگئی ، ہوا کچھ یوں کہ ایک دن مدنی