داخلے کے لیے جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار پہنچ گیا، میری خوش قسمتی میرا داخلہ ہوگیا اور یوں میں باقاعدگی سے علمِ دین کے سنہری پھول چننے میں مصروف ہو گیا۔ تادمِ تحریر درجہ ثانیہ کے طالبِ علم کی حیثیت سے جامعۃ المدینہ میں علمِ دین سے روشناس ہو رہا ہوں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ مذکورہ اسلامی بھائی دیگر گناہوں کے ساتھ ساتھ حسد کے گناہ کا بھی مرتکب ہو رہا تھا اور اپنے آپ کو نارِ جہنم کا حقدار بنا رہا تھا۔
پیارے اسلامی بھائیو! حسد کرنا گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے حسد کی تعریف کرتے ہوئے امام جرجانی اپنی کتاب’’ ا لتعریفات ‘‘ صفحہ نمبر۶۲ پر فرماتے ہیں: ’’تَمَنِّی زَوَالَ نِعْمَۃِ الْمَحْسُوْدِ إِلَی الْحَاسِدِ یعنی کسی شخص کی نعمت دیکھ کر یہ آرزو کرنا کہ یہ نعمت اس سے زائل ہو کر مجھے مل جائے۔ بے شمار احادیث حسد کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں ۔ چنانچہ،
نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :لَا یَجْتَمِعُ فِیْ جَوْفِ عَبْدٍ اَلْاِیْمَانُ وَالْحَسَدُ یعنیآدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔ (شعب الإیمان، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد،۵/۵۶۱، حدیث:۶۶۰۹)
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبی