کر دیتا تھا مگرمدنی چینل پر سنّتوں بھرا بیان سن کر میرے دل میں کچھ ایسا جذبہ بیدار ہوا کہ میں نے خود ہی دعوت اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی، اجتماع کے اختتام پر میں نے رو رو کر اپنے سابقہ تمام گناہوں سے معافی مانگی، اس اجتماع کے بعد میرے دل میں حصولِ علمِ دین کا شوق مچلنے لگا چنانچہ میں گوجرا میں ہونے والے ۴۱ روزہ سنتوں بھرے تربیتی کورس میں شریک ہوگیا اور اس کی برکتوں سے مالامال ہونے لگا، عاشقانِ رسول کا قُرب کیا ملا میں نے سنّتوں پر عمل کرنے کی نیت کرلی، کرم بالائے کرم یہ کہ اسی کورس کے دوران شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہوگیا ۔ الغرض میں تربیتی کورس کے فیضان سے فیض یاب ہوکر گھر لوٹا ، خوش قسمتی سے اسی سال (کمالیہ) میں ہونے والے پورے ماہ رمضان کے اجتماعی اعتکاف میں معتکف ہوگیا، جہاں سنتیں اور دعائیں سیکھنے کا موقع ملا ۔ اعتکاف کے پُرکیف مناظر سے میں اس قدر متأثر ہوا کہ میں نے اپنے آپ کو مدنی رنگ میں رنگ لیا، عمامہ شریف کا تاج سجالیا، مزیدنورِ علم دین سے روشن ہونے کا جذبہ دل میں پیدا ہوگیا،اعتکاف کے بعد میں نے دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ میں داخلہ لینے کا عزم کرلیا ، اعتکا ف کے بعد میں حسب نیّت