Brailvi Books

سنتِ رسول سے محبت
18 - 32
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غصہ کرنا، انسان کے لیے ہلاکت خیز ہے  غُصیلے انسان کو شیطان اس طرح اچھالتا اور پھینکتا ہے جیسے بچے گیندکو اچھالتے اور پھنکتے ہیں ، غُصیلا شخص علم و عمل کے کتنے ہی بڑے مرتبے پر فائز ہو، خواہ اپنی دعاؤں سے مرد ے تک زندہ کر سکتا ہو، شیطان اس سے کبھی مایوس نہیں ہوتا، اسے امید ہوتی ہے کہ کبھی نہ کبھی وہ غصّے میں بے قابو ہو کر کوئی ایساجملہ کہہ دے گا جس سے اس کی آخرت تبا ہ ہو جائے گی۔ لہٰذا غصّہ کاعلاج کرنا ضروری ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غصّے کے سبب شیطان سارے اعمال برباد کردے۔ 
	غصّہ کی تعریف کرتے ہوئے مفسرِ شہیر حکیم الامت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’غضب یعنی غُصّہ نفس کے اُس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اُسے دفع (دور) کرنے پر ابھارے۔(مراۃ المناجیح، ۴/۶۵۵) 
 	حجۃ الاسلام امام محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیْ  فرماتے ہیں : ’’غصّہ کا علاج اور اس باب میں محنت و مشقت برداشت کرنا فرض ہے، کیونکہ اکثر لوگ غصّے ہی کے باعث جہنَّم میں جائیں گے۔‘‘ (کیمیائے سعادت ،۲/۶۰۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد