Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
71 - 764
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور اُس کی نشانیوں  سے ہیں  دریا میں  چلنے والیاں  جیسے پہاڑیاں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سمندر میں  چلنے والی پہاڑوں  جیسی کشتیاں  اس کی نشانیوں میں  سے ہیں ۔
{وَ مِنْ اٰیٰتِهِ: اور اس کی نشانیوں  سے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ سمندر میں  چلنے والی پہاڑوں  جیسی بڑی بڑی کشتیاں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کے دلائل اور اس کی قدرت، عظمت اور حکمت کی نشانیوں میں  سے ہیں  کہ بادبانی کشتیاں  ہوا کے ذریعے چلتی اور رکتی ہیں  اور ان ہواؤں  کو چلانے اور روکنے پر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی قدرت نہیں  رکھتااور یہ قدرت والے معبود کے وجود کی دلیل ہے،اور اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ کشتیاں  انتہائی وزنی ہوتی ہیں  لیکن اپنے بھر پور وزن کے باوجود ڈوبتی نہیں  بلکہ پانی کی سطح پر تیرتی جاتی ہیں ۔ان کشتیوں  کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں  پر عظیم انعامات کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے،جیسے ان کشتیوں  کے ذریعے زمین کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سامان کی نقل و حمل سے تجارت کے عظیم فوائد حاصل ہوتے ہیں  اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔( روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۲، ۸/۳۲۴، تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۲، ۹/۶۰۲، ملتقطاً)
اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ(۳۳) اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘(۳۴) وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَاؕ-مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ(۳۵)
ترجمۂکنزالایمان: وہ چاہے تو ہوا تھما دے کہ اس کی پیٹھ پر ٹھہری رہ جائیں  بے شک اس میں  ضرور نشانیاں  ہیں  ہر بڑے صابر شاکر کو۔ یا اُنھیں  تباہ کردے لوگوں  کے گناہوں  کے سبب اور بہت کچھ معاف فرمادے۔ اور جان جائیں  وہ