لوگوں کی نفرت اور ملامت کا سامنا کرتا ہے جو عیب تلاش کرنے اور انہیں ظاہر کرنے میں لگا رہتا ہے ،یوں عیب تلاش کرنے والے اور جس کا عیب بیان کیا جائے ، دونو ں کی عزت و حرمت چلی جاتی ہے ،اس لئے دین ِاسلام نے عیبوں کی تلاش میں رہنے اور انہیں لوگوں کے سامنے شرعی اجازت کے بغیر بیان کرنے سے منع کیا اور اس سے باز نہ آنے والوں کو سخت وعیدیں سنائیں تاکہ ان وعیدوں سے ڈر کر لوگ اس بُرے فعل سے با ز آ جائیں اور سب کی عزت و حرمت کی حفاظت ہو۔
{وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔} اس آیت میں تیسرا حکم یہ دیا گیا کہ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مَرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، یقینا یہ تمہیں ناپسند ہوگا ،تو پھر مسلمان بھائی کی غیبت بھی تمہیں گوارا نہ ہونی چاہئے کیونکہ اس کو پیٹھ پیچھے برا کہنا اس کے مرنے کے بعد اس کا گوشت کھانے کی مثل ہے کیونکہ جس طرح کسی کا گوشت کاٹنے سے اس کو ایذا ہوتی ہے اسی طرح اس کی بدگوئی کرنے سے اسے قلبی تکلیف ہوتی ہے اور درحقیقت عزت وآبرُو گوشت سے زیادہ پیاری ہے۔شانِ نزول: جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جہاد کے لئے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مال داروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو کردیتے کہ وہ غریب اُن کی خدمت کرے اور وہ اسے کھلائیں پلائیں ،یوں ہر ایک کاکا م چلے،چنانچہ اسی دستور کے مطابق حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دو آدمیوں کے ساتھ کئے گئے تھے، ایک روز وہ سوگئے اور کھانا تیار نہ کرسکے تو اُن دونوں نے انہیں کھانا طلب کرنے کے لئے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں بھیجا، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کچن کے خادم حضرتِ اُسامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تھے، اُن کے پاس کھانے میں سے کچھ باقی رہا نہ تھا،اس لئے انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہی آکر کہہ دیا تو اُن دونوں رفیقوں نے کہا : اُسامہ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ) نے بخل کیا ۔جب وہ حضورِانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا’’ میں تمہارے منہ میں گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں ۔ اُنہوں نے عرض کی:ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں ۔ ارشادفرمایا’’ تم نے غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اُس نے مسلمان کا گوشت کھایا۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۱۷۰-۱۷۱ملخصاً)