Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
438 - 764
فرمایا: ’’جو شخص ایسی چیز دیکھے جس کو چھپانا چاہیے اور اس نے پردہ ڈال دیا (یعنی چھپادی) تو ایسا ہے جیسے مَوْء ُوْدَہ (یعنی زندہ زمین میں  دبا دی جانے والی بچی) کو زندہ کیا۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی الستر علی المسلم، ۴/۳۵۷، الحدیث: ۴۸۱۹)
	اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی اپنے مسلمان بھائیوں  کے عیب چھپانے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
لوگوں  کے عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے عیبوں  کی اصلاح کی جائے:
	جو شخص لوگوں کے عیب تلاش کرنے میں  رہتا ہے اسے خاص طور پر اور تمام لوگوں  کو عمومی طور پر چاہئے کہ کسی کے عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے اندر موجود عیبوں  کو تلاش کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں  کہ اسی میں  ان کی اور دوسروں کی دنیا و آخرت کابھلا ہے ۔
 	حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تم میں  سے کوئی شخص اپنے بھائی کی آنکھ میں  تنکادیکھتاہے اوراپنی آنکھ کوبھول جاتاہے۔( شعب الایمان، الرابع والاربعون من شعب الایمان... الخ، فصل فیما ورد... الخ، ۵/۳۱۱، الحدیث: ۶۷۶۱)
	حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :جب تم اپنے ساتھی کے عیب ذکر کرنے کا ارادہ کرو تو (اس وقت) اپنے عیبوں  کو یاد کرو۔( شعب الایمان، الرابع والاربعون من شعب الایمان... الخ، فصل فیما ورد... الخ، ۵/۳۱۱، الحدیث: ۶۷۵۸)
	اللہ تعالیٰ ہمیں  دوسروں  کے عیب تلاش کرنے سے بچنے،اپنے عیبوں  کو تلاش کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
انسان کی عزت و حرمت کی حفاظت میں  اسلام کا کردار
	دین ِاسلام کی نظر میں  ایک انسا ن کی عزت و حرمت کی قدر بہت زیادہ ہے اور اگر وہ انسان مسلمان بھی ہو تو اس کی عزت و حرمت کی قدر اسلام کی نظر میں  مزید بڑھ جاتی ہے، اسی لئے دین ِاسلام نے ان تما م اَفعال سے بچنے کا حکم دیا ہے جن سے کسی انسان کی عزت و حرمت پامال ہوتی ہو،ان افعال میں  سے ایک فعل کسی کے عیب تلاش کرنا اور اسے دوسروں  کے سامنے بیان کر دینا ہے جس کا انسانوں  کی عزت و حرمت ختم کرنے میں  بہت بڑ اکردار ہے ،اس وجہ سے جہاں  اس شخص کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا عیب لوگوں  کے سامنے ظاہر ہو جائے وہیں  وہ شخص بھی