کی غیبت کرنا حرام ہے ۔
(3)…بد گمانی کرنے والا محض اپنے گمان پر صبر نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے عیب تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے اور کسی مسلمان کے عیبوں کوتلاش کرناناجائز و گناہ ہے ۔
(4)…بد گمانی کرنے سے بغض اور حسد جیسے خطرناک اَمراض پیدا ہوتے ہیں ۔
اور اس کے دو بڑے دُنْیَوی نقصانات یہ ہیں ،
(1)… بد گمانی کرنے سے دو بھائیوں میں دشمنی پیدا ہو جاتی ہے،ساس اور بہو ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں ، شوہر اور بیوی میں ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوجاتا اور بات بات پر آپس میں لڑائی رہنے لگتی ہے اور آخر کاران میں طلاق اور جدائی کی نوبت آجاتی ہے ،بھائی اور بہن کے درمیان تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور یوں ایک ہنستا بستا گھر اجڑ کر رہ جاتا ہے۔
(2)… دوسروں کے لئے برے خیالات رکھنے والے افراد پر فالج اور دل کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حال ہی میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی رپوٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ افراد جو دوسروں کے لئے مخالفانہ سوچ رکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار اور غصے میں رہتے ہیں ان میں دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ86%بڑھ جاتا ہے۔
بد گمانی کا علاج:
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : شیطان آدمی کے دل میں بدگمانی ڈالتاہے تومسلمان کوچاہیے کہ وہ شیطان کی تصدیق نہ کرے اوراس کوخوش نہ کرے حتّٰی کہ اگرکسی کے منہ سے شراب کی بوآرہی ہوتوپھربھی اس پر حد لگانا جائز نہیں کیونکہ ہوسکتاہے اس نے شراب کاایک گھونٹ پی کرکلی کردی ہویاکسی نے اس کو جَبراً شراب پلادی ہو اوراس کااِحتمال ہے تووہ دل سے بدگمانی کی تصدیق کرکے شیطان کوخوش نہ کرے (اگرچہ مذکورہ صورت میں بدگمانی کا گناہ نہیں ہوگا لیکن بچنے میں پھر بھی بھلائی ہی ہے) (احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، بیان تحریم الغیبۃ بالقلب، ۳/۱۸۶ملخصاً)۔()