Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
434 - 764
اور یونہی مومن کے ساتھ برا گمان کرنا۔ (4)جائز ،جیسے فاسقِ مُعْلِن کے ساتھ ایسا گمان کرنا جیسے افعال اس سے ظہور میں  آتے ہوں ۔
	حضرت سفیان ثوری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : گمان دو طرح کا ہے، ایک وہ کہ دل میں  آئے اور زبان سے بھی کہہ دیا جائے ۔یہ اگر مسلمان پر برائی کے ساتھ ہے تو گناہ ہے ۔دوسرا یہ کہ دل میں  آئے اور زبان سے نہ کہا جائے، یہ اگرچہ گناہ نہیں  مگر اس سے بھی دل کو خالی کرنا ضروری ہے۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۱۷۰-۱۷۱، مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۱۵۵، ملتقطاً)
	یہاں  بطورِ خاص بد گمانی کے شرعی حکم کی تفصیل ملاحظہ ہو،چنانچہ
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :مسلمان پر بدگمانی خود حرام ہے جب تک ثبوتِ شرعی نہ ہو۔( فتاوی رضویہ،۶/۴۸۶)
	دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :مسلمانوں  پر بدگمانی حرام اور حتّی الامکان اس کے قول وفعل کو وجہ ِصحیح پر حمل واجب (ہے)۔( فتاوی رضویہ،۲۰/۲۷۸)
	صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :بے شک مسلمان پر بد گمانی حرام ہے مگر جبکہ کسی قرینہ سے اس کا ایسا ہونا ثابت ہوتا ہو(جیسا اس کے بارے میں  گمان کیا) تو اب حرام نہیں  ،مثلاً کسی کو (شراب بنانے کی) بھٹی میں  آتے جاتے دیکھ کر اسے شراب خور گمان کیا تواِس کا قصور نہیں  (بلکہ بھٹی میں  آنے جانے والے کا قصور ہے کیونکہ) اُس نے موضعِ تہمت (یعنی تہمت لگنے کی جگہ) سے کیوں  اِجتناب نہ کیا۔( فتاوی امجدیہ، ۱/۱۲۳)
	صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :مومنِ صالح کے ساتھ برا گمان ممنوع ہے ، اسی طرح اس کا کوئی کلام سن کر فاسد معنی مراد لینا باوجود یکہ اس کے دوسرے صحیح معنی موجود ہوں  اور مسلمان کا حال ان کے موافق ہو ، یہ بھی گمانِ بد میں  داخل ہے ۔( خزائن العرفان، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۹۵۰)