Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
432 - 764
عَنْہُ کا سَیْفُ اللہ تھا) اور جو اَلقاب گویا کہ نام بن گئے اور اَلقاب والے کو ناگوار نہیں  وہ القاب بھی ممنوع نہیں  ،جیسے اَعمَش اور اَعرَج وغیرہ۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۱۷۰)
{بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ: مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے۔} ارشاد فرمایا: مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے تو اے مسلمانو، کسی مسلمان کی ہنسی بنا کر یا اس کو عیب لگا کر یا اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسق نہ کہلاؤ اور جو لوگ ان تمام افعال سے توبہ نہ کریں  تو وہی ظالم ہیں ۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۱۷۰)
آیت ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	اس آیت سے تین مسئلے معلوم ہوئے 
(1)… مسلمانوں  کی کوئی قوم ذلیل نہیں ،ہر مومن عزت والا ہے ۔
(2)… عظمت کا دار و مدار محض نسب پر نہیں  تقویٰ و پرہیز گاری پر ہے ۔ 
(3)… مسلمان بھائی کو نسبی طعنہ دینا حرام اور مشرکوں  کا طریقہ ہے آج کل یہ بیماری مسلمانوں  میں  عام پھیلی ہوئی ہے۔ نسبی طعنہ کی بیماری عورتوں  میں  زیادہ ہے، انہیں  اس آیت سے سبق لینا چاہیے نہ معلوم بارگاہِ الٰہی میں  کون کس سے بہتر ہو۔ 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو بہت گمانوں  سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں  کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں  گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے