Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
431 - 764
طعنہ دینے کی مذمت:
	اَحادیث میں  طعنہ دینے کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،یہاں اس سے متعلق 2اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت ابودرداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بہت لعن طعن کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ ہوں  گے نہ شفیع۔( مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب، باب النّہی عن لعن الدّواب وغیرہا، ص۱۴۰۰، الحدیث: ۸۵(۲۵۹۸))
(2)… حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مومن نہ طعن کرنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش بکنے والا بے ہودہ ہوتا ہے۔( ترمذی، کتاب البرّ والصّلۃ، باب ما جاء فی اللّعنۃ، ۳/۳۹۳، الحدیث: ۱۹۸۴)
	اللہ تعالیٰ ہمیں  طعنہ دینے سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔
{وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ: اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔} برے نام رکھنے سے کیا مراد ہے ا س کے بارے میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں  ،ان میں  سے تین قول درج ذیل ہیں  
(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا’’ ایک دوسرے کے برے نام رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے کسی برائی سے توبہ کرلی ہو تو اسے توبہ کے بعد اس برائی سے عار دلا ئی جائے ۔یہاں  آیت میں  اس چیز سے منع کیا گیا ہے ۔
	حدیث ِپاک میں  اس عمل کی وعید بھی بیان کی گئی ہے ،جیسا کہ حضر ت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے اپنے بھائی کواس کے کسی گناہ پرشرمندہ کیا تووہ شخص اس وقت تک نہیں  مرے گاجب تک کہ وہ اس گناہ کا اِرتکاب نہ کرلے ۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ...الخ، ۵۳-باب، ۴/۲۲۶، الحدیث: ۲۵۱۳)
(2)…بعض علماء نے فرمایا ’’برے نام رکھنے سے مراد کسی مسلمان کو کتا ،یا گدھا، یا سور کہنا ہے ۔
(3)…بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ اَلقاب مراد ہیں  جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو (لیکن تعریف کے القاب جو سچے ہوں  ممنوع نہیں ، جیسے کہ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا لقب عتیق اور حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا فاروق اور حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ذوالنُّورَین اور حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ابوتُراب اور حضرت خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی