اس کی آنکھ میں سفیدی ہے ۔عرض کی :اللہ تعالیٰ کی قسم!ایسا نہیں ہے۔نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیاکوئی ایسا ہے جس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہو(آپ نے اس سے وہ سفیدی مراد لی تھی جو آنکھ کے سیاہ حلقے کے ارد گرد ہوتی ہے)۔(سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب صفاتہ المعنویۃ، الباب الثانی والعشرون فی مزاحہ... الخ، ۷/۱۱۴)
(2)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہم میں گھلے ملے رہتے ، حتّٰی کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے’’ ابو عمیر !چڑیا کا کیا ہوا۔( بخاری، کتاب الادب، باب الانبساط الی الناس، ۴/۱۳۴، الحدیث: ۶۱۲۹)
(3)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک شخض نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سواری مانگی تو ارشاد فرمایا’’ ہم تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔اس نے عرض کی : میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’ اونٹ کو اونٹنی ہی تو جنم دیتی ہے۔ (ترمذی، کتاب البرّ والصّلۃ، باب ما جاء فی المزاح، ۳/۳۹۹، الحدیث: ۱۹۹۹)
(4)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایا:’’ جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہ جائے گی۔انہوں نے (پریشان ہو کر) عرض کی : تو پھر ان کا کیا بنے گا؟ (حالانکہ) وہ عورت قرآن پڑھاکرتی تھی۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا تم نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا کہ
’’اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ(۳۵) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا‘‘(واقعہ:۳۵،۳۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا۔توہم نے انہیں کنواریاں بنایا۔( مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب المزاح، الفصل الثانی، ۲/۲۰۰، الحدیث: ۴۸۸۸)
{وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ: اورآپس میں کسی کوطعنہ نہ دو۔} یعنی قول یا اشارے کے ذریعے ایک دوسرے پر عیب نہ لگائو کیونکہ مومن ایک جان کی طرح ہے جب کسی دوسرے مومن پرعیب لگایاجائے گاتوگویااپنے پرہی عیب لگایاجائے گا۔( روح المعانی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۳/۴۲۴)