Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
427 - 764
مذاق اُڑانے کا شرعی حکم اور اس فعل کی مذمت:
	مذاق اُڑانے کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اہانت اور تحقیر کیلئے زبان یا اشارات، یا کسی اور طریقے سے مسلمان کا مذاق اڑانا حرام و گناہ ہے کیونکہ اس سے ایک مسلمان کی تحقیر اور اس کی ایذاء رسانی ہوتی ہے اور کسی مسلمان کی تحقیر کرنا اوردکھ دینا سخت حرام اور جہنم میں  لے جانے والا کام ہے۔( جہنم کے خطرات،ص۱۷۳)
	کثیر اَحادیث میں  اس فعل سے ممانعت اور اس کی شدید مذمت اور شناعت بیان کی گئی ہے ،جیسا کہ حضرت عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی سے نہ جھگڑا کرو، نہ اس کا مذاق اڑائو، نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی خلاف ورزی کرو۔( ترمذی، کتاب البرّ والصّلۃ، باب ما جاء فی المرائ، ۳/۴۰۰، الحدیث: ۲۰۰۲)
 	اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’  میں  کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں  کرتا اگرچہ اس کے بدلے میں  مجھے بہت مال ملے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ، ۴/۳۵۳، الحدیث: ۴۸۷۵)
	حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن لوگوں  کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ آؤ، تو وہ بہت ہی بے چینی اور غم میں  ڈوبا ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی وہ دروازے کے پاس پہنچے گا وہ دروازہ بند ہو جائے گا ،پھر ایک دوسرا جنت کا دروازہ کھلے گا اور اس کو پکارا جائے گا: آؤ یہاں  آؤ، چنانچہ یہ بے چینی اور رنج وغم میں  ڈوبا ہوا اس دروازے کے پاس جائے گا تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا،اسی طرح اس کے ساتھ معاملہ ہو تا رہے گا یہاں  تک کہ دروازہ کھلے گا اور پکارپڑے گی تو وہ ناامیدی کی وجہ سے نہیں  جائے گا۔ (اس طرح وہ جنت میں  داخل ہو نے سے محروم رہے گا)( موسوعۃ ابن ابی دنیا، الصّمت وآداب اللّسان، باب ما نہی عنہ العباد ان یسخر... الخ، ۷/۱۸۳، الحدیث: ۲۸۷)
	 حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اس کی تحقیر